{"product_id":"zabaan-e-yaar-e-man-turkey-pictorial-edition","title":"ZABAAN-E-YAAR-E-MAN TURKEY (PICTORIAL EDITION)  ,  زبان یار من ترکی (مصور ایڈیشن)","description":"\u003cp\u003e(NOTE: The Book cover may vary if published by different companies.)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor:  \u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eDR. TASAWAR ASLAM BHUTTA\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCategories: \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/urdu-books\"\u003e Urdu\u003c\/a\u003e , \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/history\"\u003eHistory\u003c\/a\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages:   664\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePublisher: Book Corner\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCover: Softcover\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBook description :\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر اسلم بھٹہ آسٹریلیا میں رہتے ہیں لیکن دِل بن دیکھے ہی ترکی کو دے بیٹھے تھے، چار سال پہلے وہاں پہنچے اور اپنے ’’محبوب‘‘ سے براہِ راست تعارف حاصل کیا۔ تین ہفتے کا یہ سفر اُن کی زندگی کے یادگار لمحات میں تبدیل ہو گیا۔ ترکی اور ترکوںکو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا، تاریخی مقامات کی سیر کی، تاریخ کی کتابوں کو پھرولا اور واپس آ کر قلم اُٹھایا تو اپنے قارئین کو بھی اپنا ہم سفر بنا لیا۔ اُن کے مضامین منظرِ عام پر آئے تو دھوم مچ گئی۔ اگرچہ انھوں نے مسلسل سفرنامہ نہیں لکھا، تاہم اُن کے مضامین کتاب کی تسبیح میں پروئے گئے تو دانوں کی طرح جُڑ گئے، الگ الگ ہو کر بھی وہ ایک تھے اور ترکی کی تاریخ و ثقافت پر ایک دستاویز کی شکل اختیار کر گئے۔ مجھے اُمید ہی نہیں یقین ہے کہ ترکی سے محبت کرنے والے، دنیا بھر میں جن کی کمی نہیں ہے اور اہلِ پاکستان تو سب کے سب ترکی کے دیوانے ہیں، اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور شوق کی آنکھوں سے اس کا مطالعہ نسل در نسل جاری رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجیب الرحمٰن شامی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اس کتاب کو پڑھ کر ترکی کی تاریخ اور ثقافت کو نئی نظر سے دیکھا۔ ڈاکٹر بھٹہ کا بیانیہ انتہائی دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ ان کی تحریر ترکی کے لوگوں کی روزمرہ زندگی، ان کے تہواروں اور رسومات کی عمیق تفہیم فراہم کرتی ہے جو اِس کتاب کو زندگی کے حقیقی رنگوں سے بھر دیتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعطاء الحق قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں ڈاکٹر تصور بھٹہ کے اس سفرنامے کو ایک قاری کی حیثیت سے دیکھوں تو ان کی تحریر میں ہر وہ چیز موجود ہے جو پڑھنے والے کو نہ صرف متوجہ کرتی ہے بلکہ اسیر کرتی ہے۔ اس تحریر میں ثقافتی رنگا رنگی اور ترکی کے روایتی پہلوؤں کا بیان بے مثال ہے۔ یہ کتاب ترکی کے گہرے ثقافتی ورثے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے توشۂ خاص ہے جس میں ترکی کی تاریخ، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی خوبصورتی کو شاندار طریقے سے اجاگر کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد مسعود\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس سفرنامے میں ترکی کی جغرافیائی خوبصورتی کا جو خاکہ کھینچا گیا ہے، وہ قاری کو گھر بیٹھے ترکی کی سیر کراتا ہے۔ ڈاکٹر تصور بھٹہ کا قلم اس قدر مؤثر ہے کہ قاری خود کو ترکی کی گلیوں میں گھومتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ترکی کے حسین مناظر، باغات اور تاریخی مقامات کی سحر انگیزی کے حوالے سے ان کے قلم کی جولانی دیکھنے کے قابل ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ قاری اس سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ ترکی کا حال تو بدلتا دکھائی دیتا ہے، خدا جانے ہمارا حال کب بدلے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسہیل وڑائچ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترکی ایک ایسا دیار ہے جس سے مسلمانانِ برصغیر پاک و ہند کی محبتوں کی ایک تاریخ ہے۔ ان محبتوں کا صلہ بھی ترک عوام نے یہاں کے مسلمانوں سے مسلسل بےپناہ محبّت اور چاہت کی صورت دیا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کا امین یہ ترکی گذشتہ ایک سو سال سے انقلابات کی زد میں رہا ہے اور یہاں کئی نظریاتی موسم بدلے مگر ترک عوام کی پاکستان سے محبتوں کا موسم کبھی تبدیل نہ ہوا۔ ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا ترکی کا سفرنامہ ایک ایسی کتاب ہے جو دراصل ان کے باطن میں چھپی اس محبّت کا عملی اظہار ہے۔ انھوں نے جس خوبصورتی سے اس خطے کی ثقافت، تہذیب اور روایت کو اپنے سفرنامے کے جادو میں پرویا ہے اور جس شاندار طریقے سے بیان کیا ہے یہ ان کا کمال ہے۔ یہ سفرنامہ ایک حسین ملک کی حسین روئیداد ہے۔ شدّ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاوریا مقبول جان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر تصور بھٹہ کا یہ سفرنامہ ایک شاندار ادبی کاوش ہے۔ ترکی کی تاریخ، ثقافت اور اقدار۔ یہ سب کچھ کمال دلکشی اور مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ چونکا دینے والے انکشافات، تاریخ کے اسرار اور مقامی کہانیاں قاری کے دل کو موہ لیتی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن پسِ تحریر درد مندی نے اس تحریر کو یادگار بنا دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر محمد امجد ثاقب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر بھٹہ کے سفرنامے نے ترکی کی سیر کو ایک نئے دور کی عینک سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، پاکستانی ناظرین کی ترکی کے ٹی وی ڈراموں میں دلچسپی نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی اور ثقافتی روابط کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ڈاکٹر بھٹہ کی یہ کتاب اس تاریخی رشتے کی گہرائی اور پاکستانی عوام کی ترکی کے تئیں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بخوبی بیان کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقاسم علی شاہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر بھٹہ کی کتاب نے ترکی کی رنگا رنگ تاریخ کو ایک نئے اور اچھوتے زاویے سے پیش کیا ہے۔ ہر باب، ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ماضی کے پردے کو اٹھاتی ہے بلکہ سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے جال کو بھی سلجھاتی ہے۔ ان کے قلم سے، سیاسی انقلابات، سماجی تغیرات سے لے کر ترک تہذیب کا ہر پہلو زندہ ہو اٹھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعارف انیس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو زبان میں ایسی روانی اور فصاحت سے لکھا گیا سفرنامہ کم ہی نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر بھٹہ کی زبان کی گرفت قابلِ تعریف ہے۔ ان کی تحریر میں استعاروں کا استعمال اور لفظی جادوگری قاری کو ایک جاندار تجربہ فراہم کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتوفیق بٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترکیہ میرا پسندیدہ ملک ہے۔ ترکیہ یا ترکی کے اہم شہر استنبول دو تین مرتبہ گیا ہوں، ہر بار اس حسین شہر نے مسخر کر لیا۔ وہاں گزرے چند دن عمر بھر نہیں بھلائے جاتے۔ ترکی کے سفرنامے بھی مجھے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ’’زبانِ یارِ من ترکی‘‘ بھی ایسا ہی ایک دلچسپ اور منفرد سفرنامہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر تصور بھٹہ آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ ترکی سے ان کی محبت، وابستگی بڑھانے میں مشہور ترک ڈرامے ’’ارطغرل‘‘ کا بڑا اہم کردار ہے۔ ارطغرل کے والد سلیمان شاہ، ان کے ساتھیوں اور اولاد خاص کر عثمان کے ساتھ ان کی دلچسپی اور محبت پیدا ہوئی۔ انھوں نے وہ تمام جگہیں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سفرنامہ ان کے اسی سفر کی دلچسپ روداد ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کے اس سفرنامہ کی خوبی سادہ مگر رواں زبان ہے۔ روایتی سفرنامہ نگاروں سے ہٹ کر ڈاکٹر صاحب نے ایک عام مگر پُراشتیاق مسافر کی طرح ان تمام اہم جگہوں اور چیزوں کو کھوجنے، اپنی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کی۔ جو دیکھا اسے کسی مبالغے یا غیر ضروری رومانویت کے بغیر خوبصورتی سے بیان کر دیا۔ ابواب کی فہرست دلچسپ ہے۔ پہلا باب سلطان احمد چوک اور دوسرا کوسم سلطان پر ہے۔ ترک ڈراموں کو دیکھنے والا کون ہے جو کوسم سلطان کو نہیں جانتا؟ اگلے ابواب میں استنبول کی مختلف پرتیں اور تہیں کُھل کر سامنے آتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر تصور بھٹہ نے ہر اس اہم مقام کو دیکھنے کی کوشش کی جو ترک ڈراموں اور عثمانیہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شخص کے لیے قابلِ ذکر ہو سکتا ہے۔ وہ بڑی دلکش نثر میں اس جگہ کا تعارف کراتے اور ہلکے پھلکے انداز میں تاریخی پس منظر بیان کر دیتے ہیں۔ قاری تحریر پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ سفر کرتا اور ان تمام مناظر کو گویا اپنی نظر سے دیکھتا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاستنبول کے علاوہ کیپاڈوکیہ، قونیہ، اناطولیہ اور ارطغرل کے آبائی علاقہ برصہ کی سفری روداد بھی شامل ہے۔ یہ اُردو میں چھپنے والا ترکیہ کا ایک اہم سفرنامہ ہے۔ مجھے پڑھتے ہوئے بڑا لطف آیا۔ امید ہے آپ بھی محظوظ ہوں گے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"DR. TASAWAR ASLAM BHUTTA","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43113124626614,"sku":"","price":3750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0568\/1794\/2710\/files\/65a8f3c2326251705571266.jpg?v=1715059353","url":"https:\/\/booksvilla.com.pk\/products\/zabaan-e-yaar-e-man-turkey-pictorial-edition","provider":"Booksvilla.pk","version":"1.0","type":"link"}