{"product_id":"koi-nahi-dost","title":"KOI NAHI DOST | کوئی نہیں دوست","description":"\u003cp\u003eAuthor: NAVEED VIRK\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCategories:  \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/poetry\"\u003ePoetry\u003c\/a\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 192\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePublisher: Bookscorner\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCover: Hardcover\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBook description : \u003cspan\u003eناہید ورک کا شمار اُن شاعرات میں ہوتا ہے جنھوں نے دیارِغیر میں رہ کر اپنے تخلیقی جوہر اور محنت کے بل بوتے پر اپنی پہچان کرائی۔ اس کا زیرِ نظر شعری مجموعہ پڑھ کر یہ احساس فزوں تر ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے شعری سفر کو قابلِ رشک حد تک آگے بڑھایا ہے۔ اسے اپنے آدرش، سچائی اور تخلیقی قوت پر پورا یقین ہے۔ وہ اپنی آواز اور اپنے لہجے میں شعر کہتی ہے۔ اس کا تجربہ اپنا ہے، وہ جذبے اور فکر کے درمیان توازن رکھنے کا ہنر جانتی ہے۔ اس کی شاعری میں ایک جیتی جاگتی اور باشعور عورت سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنے خوابوں اور جذبوں کو ایسی شدّت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ حرف حرف لَو دینے لگتے ہیں۔ ناہیدؔ وِرک کا شعری سفر اُردو کے شعری اُفق پر ایک مستحکم آواز کے اُبھرنے کا اعلان کر رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغضنفر ہاشمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ہیوسٹن، امریکہ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناہید ورک کی شاعری میں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ہمت کا اور حیات و کائنات کے بھیدوں کو سمجھنے کی بھرپور جستجو ملتی ہے۔ اُن کی شاعری دل پر گزرنے والے واقعات کی تفسیر بھی ہے لیکن اُن کے دامن میں غور و فکر کا بہت سا سرمایہ بھی موجود ہے۔ اور یہ سب اس لیے کہ وہ نہ صرف سوچتی بھی ہیں بلکہ غوروفکر کے بعد یہ بھی کہتی ہیں ؎\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں تو سمجھی مِرا کوئی نہیں دوست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُس سے بڑھ کر ملا کوئی نہیں دوست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاشفاق حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کینیڈا)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساتواں در کا خواب ہر آنکھ کی زینت نہیں بنتا۔ اس کے لیے حصارِ ذات کے اطراف آگ روشن کر کے دھونی رمانی پڑتی ہے۔ اور یہ تپسیا چند دنوں کی نہیں ہوتی سو اس سے گزرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ناہید وِرک اس امتحان سے گزر کر آج ساتویں در کے اندر داخل ہو چُکی ہے۔ یہ منزل آسانی سے حاصل نہیں ہوتی ۔ اس کے لیے برسوں خار زاروں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ بدن زخموں سے بھر جاتا ہے، پیراہن تار تار ہو جاتا ہے۔ اس در پر پہنچ کر بھی اتنی دیر تک دستکیں دینی پڑتی ہیں کہ ہاتھ اور پیشانی خون سے تر ہو جاتے ہیں تب کہیں جا کر یہ در کُھلتا ہے۔ میں نے سمجھا تھا ناہید وِرک کا نڈھال پیکر اس دَر کے کھلتے ہی منہ کے بل گر پڑے گا اور یہ نیم بے ہوشی کی کیفیت دیر تک رہے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اپنے خواب کے اس نگار خانے پرنظر پڑتے ہی اس کے اعصاب میں ایک نئی زندگی دوڑنے لگی ہے۔ اس کی تپسیا کا پھل اس کے سامنے ہے۔ وہ خواب جو تجریدی شکل میں تھا اب اک مکمل منظر نامے میں ڈھل چکا ہے۔ تصوّر کے اس نگارخانہ میں اب ناہید وِرک اپنے آپ کو خود پر منکشف ہوتا دیکھ رہی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرفیع الدین رازؔ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کراچی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"NAVEED VIRK","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43597313999030,"sku":"","price":1125.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0568\/1794\/2710\/files\/670696862d41b1728484998.jpg?v=1731132884","url":"https:\/\/booksvilla.com.pk\/products\/koi-nahi-dost","provider":"Booksvilla.pk","version":"1.0","type":"link"}