{"product_id":"khuli-tarikh","title":"KHULI TARIKH ,  کھلی تاریخ","description":"\u003cp\u003eAuthor:   \u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eHINA JAMSHED\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCategories:  \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/urdu-books\"\u003eUrdu\u003c\/a\u003e , \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/history\"\u003eHistory\u003c\/a\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages:   367\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePublisher:  Book Corner\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCover: Hardcover\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBook description :\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمیں ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے پاکستانی اُردو ادب کی مختصر کہانیوں، ناولوں اور شاعری میں جھلکتی پاکستانی تاریخ کی حقیقی و شفاف ترجمانی کے لیے، نوتاریخی طریقہ کار اور تکنیک کو انتہائی تخلیقی اور قابلِ ستائش انداز میں استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں ہماری تاریخ کا ایسا بصیرت انگیز اور غیر جانبدارانہ مطالعہ سامنے آیا ہے جو پاکستان، اس کی عوام اور اس کی شب و روز بدلتی سیاست کے ابعاد کو سمجھنے میں تفہیم کی نئی راہیں کھولے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر اشتیاق احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنئی تنقیدی تھیوری کے بڑے مفسرین کے نقطۂ نظر کے بر عکس اس کتاب میں لاشعوری اور غیر شخصی محرکات کو حرفِ آخر نہیں بنایا گیا۔ یہ حنا جمشید کی اپنی مہارت ہے کہ اس نے پاکستان کی تاریخ کی پیچیدہ گرہوں کو کھول کر اس کا فیصلہ قاری کے سپرد کر دیا ہے۔ اس کتاب میں آپ پڑھیں گے کہ نوتاریخیت ادیب کی ذہنی زندگی پر دباؤ ڈالنے والے محرکات، اداروں اور قوتوں کا سراغ لگاتی ہے، جو ایک بھرپور طاقت کی صورت اس کی تحریر پر اثرانداز ہوتے ہیں، مثلاً خاندانی روایات، مذہبی و نیم مذہبی عقائد، ثقافت، رسوم و رواج، حکومتِ وقت کے سخت گیر رویے وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ کہ کس طرح یہ تمام قوتیں ایک دوسرے کی طاقت میں اضافہ بھی کرتی جاتی ہیں اور خود کو قطعی غیر مبدل خیال کرتی ہیں، جیسے فقط وہ ہی فطری ہوں اور اس طرح ان کے مدِ مقابل جو بھی کھڑا ہو جائے یا ان کی نشاندہی کرے تو وہ اسے اپنا دشمن تعبیر کرتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر انوار احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حنا جمشید نے اہم مگر مشکل موضوع کا انتخاب کیا ، انھوں نے آزادی اور اس کے بعد کے پاکستانی ادب کا نو تاریخی مطالعہ جس محنت، توجہ اور ذہانت سے کیا ہے، وہ داد طلب ہے۔ ان کا عمومی نقطہ ٔنظر ترقی پسندانہ ہے، جو اِس مطالعے میں بھی جھلکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ترقی پسندی کو ایک جامد نظریہ نہیں سمجھتیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی کلاسیکی مارکسی تصور کی حتمیت پر اصرار نہیں کرتیں جس پر فرینکفرٹ سکول نے خاصی تنقید کی ہے۔ نوتاریخیت میں سماج کا تصور معاشی یا طبقاتی نہیں ہے، لیکن وہ طاقت کے تصورات (جو کئی طرح کے ہیں)کو ضرور اہمیت دیتی ہیں، کیونکہ طاقت جہاں بھی ہوتی ہے وہاں سماج بٹ جاتا ہے کہ ہر طاقت کو اپنا معروض چاہیے۔ سماجی و قومی سانحات، طاقت کے اندھے استعمال ہی کی شکلیں ہیں جنھیں حناجمشید نے اس بسیط مطالعے میں بہ طور خاص اہمیت دی ہے اور ان میں اُردو ادب اور ہماری مقامی تاریخ کے نئے رشتے دریافت کیے ہیں۔ اُمید ہے اہلِ نظر اس کام کو تحسین کی نظر سے دیکھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر ناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"HINA JAMSHED","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43115843059894,"sku":"","price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0568\/1794\/2710\/files\/6501959e9f1fb1694602654.jpg?v=1715161171","url":"https:\/\/booksvilla.com.pk\/products\/khuli-tarikh","provider":"Booksvilla.pk","version":"1.0","type":"link"}