{"product_id":"gurezan-گریزاں","title":"GUREZAN | گریزاں","description":"\u003ch5\u003eAuthor: \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/zaheer-fatehpuri\"\u003eZAHEER FATEHPURI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003e\n\u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/bisco-hatori\"\u003e\u003c\/a\u003eBinding: Hardback\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eCategory:\u003cspan\u003e  \u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/poetry\"\u003ePoetry\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003ePublisher: Bookscorner\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003ePages: 184\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eISBN: 978-969-662-707-4\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eAbout the book:\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003e\u003cspan\u003eظہیر فتحپوری کا پورا نام سیّد ظہیر حسنین عابدی تھا۔ 13 مئی 1928ء کو قصبہ ایرایاں سادات ضلع فتحپور ہَسوَہ (یُوپی) ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1947ء تک زیادہ تر گوالیار میں قیام رہا۔ تقسیم ہوئی تو راولپنڈی آگئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ 1956ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم اے اُردو کیا۔ 1963ء میں مجلس ترقّیِ ادب لاہور کے لیے مرزا رُسوا کا ناول ’’اُمرائو جان اَدا‘‘ مرتّب کیا۔ 1965ء میں ’’رُسوا کی ناول نگاری‘‘ بطورتھیسز پنجاب یونیورسٹی کو ڈاکٹریٹ کے لیے پیش کی اور اسی ادبی کاوش پر آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ تدریسی شعبہ میں کچھ دن کے لیے چین کی پیکنگ یونیورسٹی بھی گئے، لیکن خرابیٔ صحت کے باعث وہاں زیادہ قیام نہ کرسکے اور جلد ہی وطن واپس آگئے۔ واپس آنے کے بعد زیادہ تر بیمار ہی رہے اور طویل علالت کے بعد 8 جولائی 1981ء کو راولپنڈی میں راہیِ مُلکِ بقا ہوئے۔ ڈاکٹر ظہیر فتحپوری کی جھولی علمی و فکری تمام اصنافِ سخن کے انمول جواہرات سے لبریز ہے۔ ان کے دیگر علمی کارناموں میں منتخب مراثیِ دبیر، رُسوا کی شاعری، رُسوا کی تنقید، پریم چند کا تنقیدی مطالعہ، اُردو شاعری کی جمالیاتی قدریں اور پریم چند کا نظریۂ حیات اور نظریۂ فن شامل ہیں۔ ان جواہر پاروں کے علاوہ شعرا اور ادیبوں پر ان کے متعدد مضامین رسالوں میں چھپ چکے ہیں۔ ادیب اور نقّاد ہونے کے ساتھ وہ اپنی ترپن سالہ زندگی کے میدانِ شاعری میں بھی ذہنی سفر کا قدیم تجربہ رکھتے تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام 1991ء میں ’’گُریزاں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں اغلاط بہت تھیں۔ نامور شاعر اور ادیب محمد اظہار الحق نے اس مجموعے کو نئے سِرے سے ترتیب دے کر بلاشبہ ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e","brand":"ZAHEER FATEHPURI","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":50503096991926,"sku":null,"price":1499.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0568\/1794\/2710\/files\/6aa23dcd84a731789017549.jpg?v=1790240880","url":"https:\/\/booksvilla.com.pk\/products\/gurezan-%da%af%d8%b1%db%8c%d8%b2%d8%a7%da%ba","provider":"Booksvilla.pk","version":"1.0","type":"link"}