{"product_id":"aalmi-sab-rang-afsanay","title":"AALMI SAB RANG AFSANAY | عالمی سب رنگ افسانے","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor: \u003c\/strong\u003e\u003ca href=\"https:\/\/booksvilla.com.pk\/collections\/muhammad-hamid-siraj\"\u003eMUHAMMAD HAMID SIRAJ\u003c\/a\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategories:\u003ca href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/categories\/world-fiction-in-urdu?lang=\"\u003e \u003c\/a\u003e\u003c\/strong\u003e\u003ca href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/categories\/world-fiction-in-urdu?lang=\"\u003eWORLD FICTION IN URDU\u003c\/a\u003e \u003ca href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/categories\/short-stories?lang=\"\u003eSHORT STORIES\u003c\/a\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003epages:\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cstrong\u003ePublisher: \u003c\/strong\u003eBook Corner\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cstrong\u003eCover: \u003c\/strong\u003eHardback\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cstrong\u003e:کتاب کا تعارف\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتبصرہ نگار : عافیہ جہانگیر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوب صورت، دیدہ زیب، رنگوں سے سرورق لیے، لحیم و شحیم کتاب عالمی سب رنگ افسانے جب میرے ہاتھ میں آئی تو اس کی خوب صورتی اور ائز دیکھ کر خوشی سے میں پھولے نہ سمائی کہ انتخاب میں بہترین عالمی افسانے ایک ساتھ پڑھنے کو مل جانا، یقینا خوشی ہی کی بات تھی اور مرتب حامد سراج صاحب کا اعلیٰ ادبی ذوق افسانوں کے دلدادہ قارئین کے لیے غنیمت ہے۔ وہ نہ صرف بہترین مرتب بلکہ نہایت منجھے ہوئے لیجنڈ لکھائی بھی ہیں۔ اُن کی بے شمار تصانیف اس بات کی گواہی دیں گی کہ انہوں نے بلاشبہ اُردو ادب کو بہترین افسانے، کہانیاں، انتخابات، مجموعے دیگر ادبی اصناف دی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیر تبصرہ کتاب اپنی ضخامت کے حساب سے بھی خوب ہے اور افسانوں کے معیار میں بھی خوب تر ہے۔ جو عالمی ادب اس شاندار مجموعے میں شامل ہے۔ اس میں اٹلی، افغانستان، امریکا، ایران، آئرلینڈ، برازیل، نبنگال، برطانیہ، تُرکی، جرمنی، چلّی، چیکوسلواکیا، چین، روس، رومانیہ، سربیا، شام، فرانس، مراکش، مصر، ناروے، ویت نام، ہندوستان، ہنگری وغیرہ شامل ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اتنے سارے ملکوں کا ادب ایک ساتھ ایک ہی مجموعے میں، بہترین اُردو نثری زبان میں پڑھنے کو مل جائے تو ادب سے محبت رکھنے والا خوشی سے کیوں نہ جھوم اُٹھے؟ ایسی ہی ایک شام جب مجھے یہ مجموعہ، ’’خوبصورت‘‘ بذریعہ کورئیر ملا، تو اس کو پڑھنے کے لیے نہ صرف وقت درکار تھا بلکہ مطالعہ کے دیگر ضروری لوازمات (میرے مطابق) بھی لازم تھے جن میں سب سے پہلے تو گرما گرم کافی یا چائے کا بھرا مگ، پس منظر میں ہلکی سی موسیقی(اُردو غزل ہو تو بہترین) اور تیسری چیز سب سے ضروری کھلی ہوا میں بیٹھنا، چاہے صحن ہو، لان ہو ٹیرس یا پھر کھڑکی سے نظر آتی شام کا منظر۔ اب میں ایک عمدہ کتاب پڑھنے کے لیے بالکل تیار ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب سے پہلے کس ملک کا ادب پڑھا جائے؟ بہت سوچ بچار کے بعد طے ہوا کہ ہندوستانی ادب تو اکثر نظر سے گزرتا رہتا ہے اور لاجواب بھی ہوتا ہے۔ اس دفعہ شروعات ذرا ہٹ کے کی جائے۔ تو میں نے جرمنی اور اٹلی کا ادب پڑھنے کے لیے چُنا۔ کتاب میں ایک خاص بات پائی۔ وہ یہ کہ اس میں جتنا بھی ادب شامل کیا گیا ہے انتہائی معیاری، مکمل مگر مختصر افسانے اور سب کے صفحات تقریباً ایک ہی تعداد میں ہیں۔ اسے اتفاق کہیے یا باقاعدہ منصوبہ بندی، جو بھی ہے خوبصورت بات ہے۔ اس سے قاری پر ایک خوشگوار تاثر پڑتا ہے۔ کم از کم مجھے تو یہ اچھا لگا۔ کچھ افسانوں کے صفحات زیادہ ہیں، ورنہ زیادہ تر افسانے ایک ہی جیسے ہیں یعنی مناسب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکئی افسانے ایسے تھے جن کی مجھے تلاش تھی اور اُردو میں اُن کا خاصا نام ہوا تھا مگر اب انہیں تلاش کرنا بہت مشکل تھا۔ وہ اسی مجموعے میں دیکھ کر خوشگوار حیرت نے آن گھیرا اور کچھ افسانے ایسے ہیں جو بار بار پڑھے جانے کے لائق ہیں جیسے ہندوستانی ادب نگاری کا بہترین شاہکار عورت، رات اور چور۔ اتنی مکمل خوب صورت کہانی، ساتھ اُردو زبان کے موتی بکھیرتے لفظوں نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ میری کوشش ہو گی کہ یہ کہانی آئندہ آنے والے کسی شمارے میں شامل کی جائے تاکہ میرے ساتھ ساتھ باقی تمام قارئین بھی لطف اندوز ہو سکیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذرا کہانی کا پلاٹ ملاحظہ ہو۔ ایسا اچھوتا خیال آج کے افسانوں کو چھو کر بھی نہیں گزرتا۔ کہانی شروع ہوتی ہے آدھی رات کے وقت سے، جس میں ایک نوجوان لڑکی شادی کے لباس میں، اندھیری سڑک پر بے پروائی سے چلتی جا ررہی ہے اور اس کی مڈبھیڑ ایک چور سے ہوتی ہے۔ چور بھی ایسا جو آج کے زمانے میں شاید ہی دیکھنے کو ملے۔ جسے نہ تو لڑکی سے کوئی مطلب نہ تھا وہ موقع پرست ہے۔ اسے مطلب ہے تو صرف ان زیورات سے، جو لڑکی پہنے ہوئے ہے۔ لڑکی اور چور کے درمیان ہونے والی گفتگو، مکالمے، لہجوں کا اُتار چڑھائو ساتھ ہی لڑکی کا اس سے اپنے دل کی ہر بات کہہ دینا۔ یقینا قاری سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسا کیا ہوا جو وہ دونوں بچھڑے دوستوں کی طرح ہر بات کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہاں سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ وہ لڑکی اپنے محبوب کے پاس جا رہی تھی اور اس کے دلھا نے ہی اسے جانے کی اجازت دی تھی۔ ذرا اس کی بے خوف گفتگو ملاحظہ ہو۔ شاید یہ بے باکی اور جرأت اسے محبت کی طاقت نے عطا کی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں تمہیں دیکھ کر حیران ہو رہا ہوں۔ آدھی رات کو زیورات سے لدی پھندی گھر سے بھاگی لڑکی کی طرح چلی جا رہی ہو۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تمہارا اندازہ درست ہے۔‘‘ سچترا نے بے خوفی سے کہا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں اپنے محبوب سے ملنے جا رہی ہوں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’چپ چاپ اپنے سارے زیور اُتار کر میرے حوالے کر دو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھ سے زیورات مت طلب کرو۔ میں انہیں دینا بھی چاہوں تو نہیں دے سکتی۔ اگر میں نے تمہیں یہ زیورات اُتار کر دے دیے تو میرا شوہر سے اجازت لے کر اپنے محبوب سے ملنے کے لیے جانے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’محبوب سے ملنے اور وہ بھی اپنے شوہر سے اجازت لے کر۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچور نے حیرانی سے کہا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میری روداد بہت عجیب ہے۔‘‘ سچترا نے کہا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں سمجھا نہیں۔‘‘ چور کے لیے اب یہ سوال حل کرنا زیورات لوٹنے سے زیادہ ضروری ہو گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں بتاتی ہوں۔‘‘ سچترا نے اسے سمجھاتے ہوئے بتانا شروع کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب آگے کی کہانی قارئین کو دلچسپ موڑ کے ساتھ اپنے سحر میں گرفتار کرتی چلی جاتی ہے۔ لکھاری من موہن باوا نے بہت خوب صورت افسانہ لکھا اور اسے ایک دلچسپ اختتام دے کر قارئین کی امیدیں ٹوٹنے نہیں دیں، جنہوں نے اس کا انجام اپنے اذہان میں سوچ لیا تھا۔ دکھوں کے لبادے میں سمٹی خوشیاں اچانک کیسے سامنے آتی ہیں۔ یہ خوبصورتی اس کتاب کے کئی افسانوں میں جا بجا بکھری ملتی ہے اور اسی خوشبو کو یکجا کر کے اس ڈھیر کو نام دیا گیا ہے ’’عالمی سب رنگ افسانے‘‘۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسفید براق اعلیٰ کوالٹی کے کاغذ پر طبع شدہ یہ نادر کتاب اگر آپ کی لائبریری میں نہیں تو اس کا مطلب آپ نے اُردو افسانے کے شیدائی ہونے کا حق ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اس کے ناشر ہیں بُک کارنر جہلم پاکستان اور قیمت کتاب کے ساتھ انصاف کرتی ہے یعنی 2400 روپے۔ اس نمبر پر رابطہ کر کے آپ براہِ راست یہ کتاب منگوا سکتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e03215440882\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e03235777931\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اُردو ڈائجسٹ نومبر 2018ء صفحہ 206)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"MUHAMMAD HAMID SIRAJ","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":40091501691062,"sku":"","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0568\/1794\/2710\/products\/5c51a691a00df1548854929.jpg?v=1625574936","url":"https:\/\/booksvilla.com.pk\/products\/aalmi-sab-rang-afsanay","provider":"Booksvilla.pk","version":"1.0","type":"link"}